میں کوئی باقاعدہ لکھاری نہیں ہوں بس اپنے اور اپنےاردگرد ہونے والے واقعات کو لفظوں میں بیان کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ مجھ جیسے بہت سے لوگ اُن واقعات سے سبق سیکھ سکیں۔
میں نے اور میرے دوستوں نے چکوال شہر میں "ہم عوام" کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے،جس کے تحت ہم گاہے بگاہے حسب توفیق سفید پوش خاندانوں کی مدد کرتے رہتے ہیں۔لیکن اکثر ہمیں لوگوں کی جانب سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ آپ لوگوں کو بکھاری بنا رہے ہیں، کسی حد تک وہ ٹھیک بھی کہتے ہیں،صرف اللہ ہی اپنی مخلوق کو پوری زندگی تک ِکھلا سکتا ہے، "انسان کے بٙس کی بات نہیں"۔ انسان میں اتنا ظرف نہیں،ہم سے مدد لینے والا بندہ جب دوسری بار پھر ہم سے مدد کی اپیل کرتا ہے تو اکثر ہمیں بھی غصہ آتا ہے کہ ابھی اس کی مدد کی تھی اور اب دیکھو یہ پھر آ گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے بہتر مدد کسی کی یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اس کا کوئی مستقل ذریعہ معاش بنا دیں،اس کو کوئی نوکری یا کوئی کام شروع کروا دیں۔
تقریباً دو سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاس ایک بیوہ خاتون ایک سابق خاتون ایم این اے کے ریفرنس سےآئیں اور اپنے حالات بیان کیے، وہ ایک گھر میں کام کرتی تھیں اور اس دن ان کو اس گھر والوں نے کام سے فارغ کر دیا تھا، وہ پریشانی کے عالم میں چکوال کے ایک سیاسی ڈیرے پر گئیں اور وہاں سے وہ مجھ تک پہنچ گئیں،خیر مجھے آج بھی یاد ہے میں نے ضروری چھان بین کے بعد ان کی -/15000 کی مدد کی، میں اپنی طرف سے دل ہی دل میں خوش ہوا کہ میں نے آج ایک ضرورت مند کی 15000 سے مدد کی، لیکن اس بیوہ خاتون نے کوئی خوشی کا اظہار نہیں کیا،بس ہلکا سا شکریہ ادا کیا اور چلی گئیں، مجھے بڑا عجیب لگا،گھر آ کر اپنی والدہ کو میں نے ساری کہانی سنائی اور والدہ سے میں نے یہ بھی کہا کہ دیکھیں کیسے عجیب لوگ ہیں،فری کے 15000 بھی لے گئی وہ عورت اور مجھے دعا تک بھی نہیں دی اور اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا اور اتنی خوش بھی نہیں ہوئی،خیر میری والدہ نے مجھے کہا کہ چھوڑو، تم نے تو مدد کر دی،اللہ نیت کا اجر دیتا ہے،
خیر دو دن گُزرے اور وہ خاتون پھر میرے پاس آ گئیں،مجھے کوفت ہوئی ان کو دیکھ کر کہ یہ پھر کیوں آ گئیں، وہ بیوہ خاتون بیٹھ گئیں اور ان کی آنکھوں میں آنسوآ گئے،میں نے ان سے پوچھا کہ ہوا کیا ہے؟،کہتی ہیں کہ آپ نے مدد کی تھی آپ کا بہت شکریہ اللہ آپ کو اجر دے،مگر بیٹا مہربانی کر کے میری کسی جگہ نوکری لگوا دو تاکہ میں باعزت طریقے سے اپنے بچوں کے لیے کچھ کما سکوں اور مجھے کسی کے دروازہ پر نہ جانا پڑے،اس ماں کی سفید پوشی کو دیکھ کر میرا دل عجیب کیفیت میں چلا گیا،میں نے ان سے کہا کہ میں کوشش کروں گا کہ آپ کے لیے کوئی کام تلاش کر سکوں۔یقین مانیں اُسی شام کو میرا دوست جو کہ ایک نجی تعلیمی ادارہ میں کام کرتا ہے,اُس نے مجھ سے کہا کہ ہمارے ادارہ کو ایک آیا کی ضرورت ہے،میں نے اسے فوراً کہا کہ ایک ضرورت مند خاتون ہیں،اگلے ہی دن میں نے ان خاتون کو بیجھا اور ان کی نوکری لگ گئی اور اب ان کو دو سال ہو گئے نوکری کرتے اور وہ باعزت طریقے سے آج بھی اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں،یہ واقعہ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی نیت اچھی ہو تو اللہ خود ہی آپ کو اپنے بندوں کی خدمت کرنے کا ذریعہ بنا دیتا ہے، کوشش کریں کہ کسی کا مستقل ذریعہ آمدن بنا دیں،لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو حسب توفیق اپنے ارد گرد موجود سفید پوش لوگوں کی مدد ضرور کریں،کیا پتہ اللہ آپ کی نیت دیکھتے ہوے کوئی ایسا بڑا کام آپ سے لے جو کہ آپ کی دنیا کو بھی سنوار دے اورآخرت میں بھی آپ کی مغفرت کا باعث بن جائے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو کھلا نہیں سکتا،"انسان کے بٙس کی بات نہیں ہے" کہ وہ اللہ کی مخلوق کی بےلوث ہو کر خدمت کر سکے۔اللہ ہی ہے مستقل رازق ہے جو کہ اپنی مخلوق کا خیال کرتا ہے اور انسانوں سے اپنی مخلوق کی خدمت کرواتا ہے،
اللہ ہم سب کو اپنی مخلوق کی خدمت کرنے کی توفیق دے،آمین

1 Comments
Thankyou
ReplyDelete