میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ سے آگے تحریک نہیں جائے گی یہ صرف عدم اعتماد تک جائے گی اور سینیٹ کے الیکشن پہلے یا دوسرے ہفتے مارچ کی گیارہ یا بارہ تحریک کو ہوں گے اور یہ ملک کو مضبوط کریں گے ۔مولانا فضل الرحمن کو بھی سینیٹ کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو۔
اگر وہ الیکشن میں حصہ لیں گے تو بہت سارا ان کا غصہ کم ہو جائیگا ، تاہم پہلے بھی ان کے غصے میں کمی آچکی ہے ۔جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ دھرنے سے حکومتیں چلی جاتی ہیں تو وہ سن لیں ہم نے ایک سو چھبیس دن دھرنا دیا مگر حکومت نہیں گری ۔
انہوں نے کہاکہ آج ملکی معیشت ، سٹاک ایکسچینج ، اشیا خوردونوش کی ضروریات کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے تو ایسے میں ہم اپوزیشن کو توقع رکھتے ہیں کہ وہ عقل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے ، تین سال ہونیوالے ہیں ایک سال ہو اور چوتھے سال انتخابی مہم شروع ہو جاتی ہے اور انتخابی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں اور آج جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم استعفے دیں گے انہیں اپنے فیصلوں پر غور کرنا چاہیے ، ان کے استعفوں سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی لیکن ملک میں بے چینی پیدا ہو جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جتنا مضبوط الیکٹرانک میڈیا پاکستان میں ہے اتنا کسی ملک میں نہیں ہے ۔
انہوں نے کہاکہ میں توقع رکھتا ہوں کہ سینیٹ الیکشن کے اوپن بیلٹ میں اپوزیشن کو حصہ لینا چاہیے اور جو سیاستدان مواقعوں کو کھو بیٹھتے ہیں اور وہ بعد میں پچھتاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن آج جو بھی یہ فیصلہ کریں گے کل بطور وزیرداخلہ لال حویلی کے باہر ان کو جواب دوں گا اور ہماری کوشش ہے کہ ہم ایسا ہی رویہ رکھیں جیسا کہ الیکشن کمیشن کے بعد احتجاج کے دوران رکھا گیا اگر اپوزیشن خلوص کا مظاہرہ کرے گی تو میں بھی ان کے ساتھ تعاون کروں گا ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست بند گلی میں داخل ہونے کا نام نہیں ہے مذاکرات کا دوسرا نام جمہوریت ہے اور جو مذاکرات کی راہ میں ڈائنا میٹ بچھاتے ہیں وہ جمہوریت کے دشمن ہوتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اقوام متحدہ سمیت ہر جگہ پر کشمیر کا مثالی کیس لڑا اور جو ہمیں طعنہ دیتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ سرینگر کے لال چوک میں شیخ رشید کی تصویر یں لگی ہوئی ہیں اور کشمیری سمجھتے ہیں کہ ہم ان کیساتھ کھڑے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پہلی میری یہ خواہش ہے کہ مولانا الیکشن لڑیں اور مفت مشورہ دیتا ہوں ، میں ان کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لوں گا ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان کوئی موقف دے گا تو پہلے ہی بھارتی کسانوں پر پاکستان کیساتھ ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے تاہم ہمارا میڈیا اس ایشو کو بہتر طریقے سے اٹھارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اپوزیشن کوکوئی ٹف ٹائم نہیں دے رہے ،وہ وفا کرینگے تو وفا کروں گا ، ستم کریں گے تو ستم کروں گا ۔
انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور زرداری سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور ان کی بیٹی کی شادی پر ان کو مبارکباد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ان کی بیٹی خوشیاں سے بھری زندگی گزارے ۔

0 Comments