اسلام آباد : (جاگو پاکستان) مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف کو جیل میں بہتر کلاس دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ميں جیل حکام کی جانب سے احتساب عدالت ميں جواب جمع کرا ديا گيا۔
جيل حکام کے مطابق خواجہ آصف کوعلحیدہ سیل میں رکھا گیا ہے جبکہ ٹی وی، اخبار، ٹیبل اور میٹریس بھی فراہم کر دیا گیا۔ ہیٹر اور گھر کا کھانا عدالتی حکم سے مشروط ہوگا۔
جمع کروائے گئے جواب میں جیل حکام نے کہا ہے کہ خواجہ آصف کو قانون کے مطابق سہولیات دی گئی ہیں۔
دو روز قبل 26 جنوری کو خواجہ آصف کے وکیل نے عدالت سے جیل میں بی کلاس سميت دیگر سہولیات کے لیے درخواست دائر کی تھی۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ جیل میں گھر کا کھانا، ہیٹر اور طبی سہولیات فراہم کیں جائیں۔ خواجہ آصف بزرگ شہری ہیں اس لیے انہیں جیل میں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا جائے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف سابق وفاقی وزير اور موجودہ رکن قومی اسمبلی ہیں جبکہ خواجہ آصف نے ایل ایل بی کر رکھا ہے اور انڈر ٹرائل ملزم ہیں۔
لاہور کی احتساب عدالت نے 22 جنوری کو خواجہ آصف کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر 4 فروری تک جيل بھيجنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ نیب نے 29 دسمبر 2020 کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیسز میں خواجہ آصف کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کو عام انتخابات سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر ملکی اقامہ رکھنے پر انہیں نااہل قرار دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی تھی۔
خواجہ آصف پر عوامی عہدوں سے اثاثے بنانے اور جعلی ذرائع آمدن بتانے سمیت 4 الزامات ہیں۔ نیب کے مطابق خواجہ آصف نے اثاثوں کے ذرائع آمدن اور اثاثوں کی دوسروں کے نام منتقلی کو چھپایا۔ خواجہ آصف کے 1991 میں 51 لاکھ کے اثاثے تھے جوکہ 2018 تک 221 ملین کے ہوگئے۔
0 Comments