اسلام آباد : (جاگو پاکستان) اسلام آباد کے پمزاسپتال میں کرونا کےمریضوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے اسٹاف کی بھی شدید کمی ہے۔
پمز اسپتال میں کرونا بیڈزکی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو بتادیا ہے کہ مزید مریض نہیں لے سکتے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے اسپتال میں کرونا مریضوں کیلئے8 وارڈز مختص ہیں ۔یہاں تشویشناک مریضوں کا روزانہ 10 سے 12 ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے۔
اسپتال میں ڈی ڈائمرز، فیرٹین، آئی ایل 6 سمیت دیگر مہنگے ٹیسٹ ہورہے ہیں۔شہری جان بچانےوالے انجیکشنز بھی باہر سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
اسپتال کے آئی سی یو میں صرف 10 بیڈز موجود ہیں اورسنگین صورتحال کے باوجود وارڈ میں دیکھ بھال کیلئے صرف 2 نرسز ہوتی ہیں۔
آئی سی یو کے رجسٹرارڈاکٹر فضل ربی نےبتایا کہ اسپتال کے حالات کافی پریشان کن ہیں،اگراحتیاط نہیں کی توآئندہ والے دن زیادہ پریشان کن ثابت ہوسکتےہیں۔
ڈاکٹر فضل نے کہا ہے کہ ریفارمز کے نام پر ایم ٹی آئی کا نفاذ تو کیا جارہا ہے لیکن مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔انھوں نے وزارت صحت سے سوال کیا کہ کرونا کے نام پر ملنے والے 12 ارب روپے کہاں گئے۔
0 Comments