Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

فیصل آباد:کمسن ملازمہ پرتشدد،ایس ایچ او کیخلاف تحقیقات کا حکم

اسلام آباد : (جاگو پاکستان) فيصل آباد ميں گھريلو ملازمہ پرتشدد کا مقدمہ نئے مرحلے ميں داخل ہوگيا۔ آئی جی پنجاب کی ہدايت پر ايس پی شہريار نے متعلقہ پوليس حکام کے خلاف تحقيقات شروع کردیں، جب کہ ايس ايچ او رائے آفتاب کا کہنا ہے سب قانون کے مطابق ہوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق تشدد کے بعد بچی کا ميڈيکل چيک اپ نہ کرانے پر پوليس کا کردار مشکوک بن گیا، جب کہ والدين اور مخالف پارٹی کے درمیان صلح پر بھی سوال کھڑے ہوگئے۔ سما سے گفتگو میں ایس ایچ او مدینہ ٹاؤن کا کہنا ہے کہ بچی نے خود ميڈيکل چيک اپ سے منع کيا اور والدين کے ہوتے ہوئے بچی کو چائلڈ پروٹيکشن بيورو کے حوالے کيسے کرتا؟۔

دوسری جانب کم سن ملازمہ کو سرعام تشدد کا نشانہ بنانے والی خاتون کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ خاتون کو آج عدالت میں پیس کیا جانا تھا۔ فیصل آباد پولیس نے اتوار 6 دسمبر کی رات چھاپہ مار کر ملزمہ ثمینہ کو گرفتار کیا۔ ملزمہ کو ایڈن ویلی میں گھر سے گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں وومن پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

 اتوار 6 دسمبر کو پولیس کی جانب سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی شکایت پر متعلقہ گھر کے سربراہ منیر رانا کو گرفتار کرکے ڈپٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ بچی کا میڈیکل چیک اپ کیوں نہیں کرایا گیا، جس پر پولیس کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ پرانا ہوچکا ہے اور بچی کے جسم پر اب کوئی تشدد کے نشانات نہیں ہیں۔

عدالت نے منیر رانا کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ویڈیو میں منیر رانا بچی پر تشدد کرتے نظر نہیں آئے۔ ویڈیو میں ان کی بیٹی ملزمہ ثمینہ، داماد اور نواسے کو بچی پر تشدد اور تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہفتہ کے روز کم سن گھریلو ملازمہ پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک لڑکے، اس کی والدہ اور باپ ، کو کم سن بچی کو تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تینوں افراد نے سڑک پر بچی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ بچی کو مارتے اور دھکا دیتے رہے۔

واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے پولیس سے رابطہ کیا اور ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ فیصل آباد چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چائلڈ پروٹیکشن افسر ثمینہ نادر کی شکایت پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 34 اور 328 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ثمینہ نادر کا کہنا تھا کہ شہری نے سی پی اینڈ ڈبلیو بی کی ہیلپ لائن پر کال کر کے تشدد کی ویڈیو بھی شیئر کی تھی۔ تشدد کا واقعہ 3 دسمبر کو پیش آیا تھا۔ پنجاب پولیس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے بچی کو اس کے والدین کے حوالے کردیا گیا تھا۔

قبل ازیں رواں برس یکم جنوری کو چونگ پولیس نے نوجوان ملازمہ کی ہلاکت کے سلسلے میں خاتون ڈاکٹر اور ان کے شوہر کو گرفتار کیا تھا جس کی موت مبینہ طور پر گھر کے اندر ہونے والے تشدد کے باعث ہوئی تھی۔

گزشتہ سال 17 مئی 2019 کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو نے مالکن کی جانب سے تشدد کا نشانہ بننے والی 10 سالہ گھریلو ملازمہ کو لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایک گھر سے بازیاب کروا کر مالکن کو گرفتار کیا تھا۔


Post a Comment

0 Comments