Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

مذاکرات کی کامیاب پر تحریک لبیک کا دھرنا ختم


اسلام آباد : (جاگو پاکستان) تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ٹی ایل پی نے اسلام آباد میں جاری دھرنا رات گئے ختم کر دیا۔

ٹی ایل پی کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی کی جانب سے سماء ڈیجیٹل کو بھیجے گئے تحریری معاہدے میں لکھا ہے کہ حکومت فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدر کرے گی۔

معاہدے کے مطابق حکومت اپنا سفیر فرانس میں تعینات نہیں کرے گی۔ فرانس کے مصنوعات کا سرکاری سطح پر مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ گرفتار افراد کو فی الفور رہا کیا جائے گا اور بعد میں موجودہ مارچ سے متعلق کوئی مقدمہ نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت مذہبی امور کے ترجمان عمران صدیقی نے تصدیق کی تھی کہ فیض آباد میں دھرنے پر بیٹھے ٹی ایل پی رہنماء خادم حسین رضوی اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا بانتیجہ اختتام ہوگیا، تحریک لبیک پاکستان جلد دھرنا ختم کرنے پر آمادہ ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات میں وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر شریک ہوئے، جنہوں نے نے ٹی ایل پی کو دھرنے کے خاتمے پر راضی کیا۔

عمران صدیقی کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے رہنماء مطالبات کی منظوری اور دھرنے کے اختتام سے متعلق اپنے کارکنوں کو خود بتائیں گے۔

ٹی ایل پی کے ترجمان محمد علی نے بھی تصدیق کردی کہ حکومت اور رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کا اجلاس جاری ہے، جو بھی فیصلہ ہوگا چند گھنٹوں میں میڈیا سے شیئر کیا جائے گا۔

تحریک لبیک کا دھرنے کا آغاز

اس سے قبل اسلام آباد میں مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک کی ریلی کا آج دن میں آغاز ہوا جس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں اہل کاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ مظاہرین آخری اطلاعات تک جڑواں شہروں اسلام آباد اور راول پنڈی کے سنگم پر فیض آباد انٹر چینج پر دھرنے دیئے موجود ہیں۔

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کا اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راول پنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد چوک پر دھرنا جاری ہے، جس کے باعث دونوں جانب سے آنے اور جانے والے راستے بند ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اتوار کی صبح ریلی کو روکنے کیلئے فیض آباد انٹر چینج کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا تھا۔

تحریک لبیک پاکستان کے ناموسِ رسالت دھرنے کے باعث جڑواں شہروں میں میٹرو بس اور موبائل فون سروس تاحال بند ہے، جب کہ فیض آباد صورت حال کے بعد راول پنڈی اندرون شہر کنٹینرز اور رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔ اتوار کی رات جماعت کے کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران پولیس اور کارکنوں میں تصادم سے 4 پولیس اہل کار سمیت 9 افراد زخمی ہوئے۔

دھرنے کے باعث جڑواں شہروں کی پبلک وین سروس بھی رکاٹوں کے باعث بند ہے، جب کہ پولیس نے فیض آباد پُل کو چاروں اطراف کنٹینرز رکھ کر بند کر رکھا ہے۔ دھرنے کے باعث ائیرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ سرکاری ملازمین اور خواتین دفاتر پہنچنے میں ٹرانسپورٹ کے منتظر رہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم میں کوئی شدید زخمی نہیں ہوا۔ زخمیوں کو معمولی زخم آئے ہیں۔ ڈی سی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ایکسپریس وے زیرو پوائنٹ سے خانہ پل تک مکمل بند ہے۔ وہ لوگ جو اس راستے کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ متبادل روٹ اختیار کریں۔

شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے ڈی سی اسلام اباد نے بتایا کہ انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ جلد از جلد راستوں کو کلیئر کرایا جاسکے۔ زخمت کیلئے انتظامیہ معذرت خواہ ہے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی میں فرانسیسی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف تحریک لبیک پاکستان کی احتجاجی ریلی گزشتہ روز 15 نومبر بروز اتوار فیض آباد پہنچی تھی۔ شہر میں تحریک لبیک کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے مابین جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں۔

اس دوران سکیورٹی اداروں کی جانب سے تحریک لبیک کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ریلی کا آغاز راول پنڈی کے تاریخی لیاقت باغ سے ہوا، جس کے بعد شرکا پولیس رکاوٹیں توڑتے ہوئے مری روڈ سے فیض آباد پہنچے۔

انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹٰ کیلئے 2 ہزار 500 پولیس اہل کار، جب کہ 700 ایف سی کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔


Post a Comment

0 Comments