
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے آپ ملک کے انٹرسٹ کو دیکھیں،یہ کسی ملک میں نہیں ہوتا کہ صوبہ آگے چلا جائے اور ملک پیچھے رہ جائےلیکن ملک نیچے آرہا ہے تو یہ کبھی نہ سوچیں کہ صوبہ اوپر جا رہا ہے، عوام کو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے کیا مسائل ہیں،توانائی سے متعلق ماضی میں کبھی بحث مباحثہ نہیں ہوا،گیس کی درآمد مقامی گیس سے کئی گنا زیادہ مہنگا ہے،اگر ہم بہت پہلے سوچنا شروع کرتے تو انرجی کرائسسز نہ آتا،ہمیں پہلے سوچنا چاہیے تھا کہ ہمیں کس فیول پر بجلی بنانی چاہیے،پہلے سوچا ہوتا تو ہم اپنے لوگوں پر مہنگی بجلی کا بوجھ نہ ڈال رہے ہوتے، صرف 27 فیصد پاکستانیوں کو پائپ گیس ملتی ہےجبکہ باقی سارے پاکستانی ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں جو میں بھی کرتا ہوں،اس کی کاسٹ 4 گنا زیادہ ہے،زیادہ غریب لوگ ہیں جو ایل پی جی پہاڑوں پر استعمال کرتے ہیں،40سال پہلے یہ فیصلے کرتے تو آج انرجی کرائسز نہ آتا،ماضی میں بروقت فیصلے نہ ہونے سے صنعتوں پر جوجھ پڑا،سبسڈی کا مطلب ہے کہ آپ ان لوگوں کی مدد کریں جو بہت پیچھے رہ گئے ہیں،سبسڈی اس طرح ہو کہ ویلتھ کریشن ہو ،ملک کی جی ڈی پی بڑھے۔
0 Comments