
اسلام آباد : (جاگو پاکستان) ادیب، افسانہ نگار اور ناول نگار اشفاق احمد کو دنیا سے رخصت ہوئے سولہ سال بیت گئے،اشفاق احمد کے جملوں کی چاشنی آج بھی پڑھنے والے ک واپنے سحرمیں جکڑ لیتی ہے۔
اشفاق احمد خان بائیس اگست انیس سو پچیس کو بھارت کے گاؤں خان پور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمداپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔انہوں نےگورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کیا اور اٹلی کی روم یونیورسٹی سے اطالوی اور فرانس کی نوبلے گرے یونیورسٹی سے فرانسیسی زبان کا ڈپلومہ حاصل کیا اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈ کاسٹنگ کی خصوصی تربیت بھی حاصل کی۔انیس سو تریپن میں اشفاق احمد کا افسانہ ’گڈریا‘ ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی ،جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہےاور پھر اشفاق احمد کا شمار ان عظیم سخن طراز کے ادیبوں میں ہونے لگا جوقیام پاکستان کے بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے۔اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔ ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ) ، کھیل کہانی (ناول) ، ایک محبت سو ڈرامے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔انیس سو پینسٹھ سے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔سترکی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانوی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈراما سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز طوطاکہانی اور من چلے کا سودا نشر ہوا۔جو عوام میں بہت مقبول ہوئے۔اشفاق احمد کچھ عرصہ تک پاکستان ٹیلی وژن پر زاویہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔اشفاق احمدسات ستمبر دو ہزار چار کو جگر کی رسولی کی باعث انتقال کرگئے ۔اردو ادب میں اشفاق احمد جیسی کہانی لکھنے کا فن کسی دوسرے شخص کو حاصل نہیں ہو سکا۔
0 Comments