
اسلام آباد : (جاگو پاکستان) پینٹاگون کی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین دنیا کی تیسری بڑی فضائیہ بن گئی ہے، جو
بہتر ٹیکنالوجی سے تائیوان پر بھی حملہ کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین اس وقت روسی ساختہ فضائی دفاعی نظاموں کو چلا رہا ہے۔ یہ دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ہیں۔ چین کے فضائی دفاعی نظام اسٹیلتھ طیاروں کو بھی نظر میں رکھ سکتے ہیں۔ تاہم سرکاری طور پر اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔چینی فضائیہ کے حوالے سے امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بات امریکا کو پریشان کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے حملے کے دائرہ کار میں تیزی سے اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ چین نے امریکا کے طیاروں سے ملتے جلتے بڑے ٹرانسپورٹ طیارے تیار کرلیے ہیں۔ ان طیاروں سے نہ صرف تائیوان پر بہتر طور پر حملہ کیا جا سکتا ہے بلکہ چین کے سمندر کے جنوب میں مزید علاقوں تک چینیوں کی رسائی میں بڑے پیمانے پر توسیع حاصل ہو گی۔امریکی فضائیہ کے بہت سے اعلیٰ عہدے داران یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ کوششیں چینی فضائیہ کے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ امریکی فضائیہ کے ایف 15 طیاروں کو جدیدہ اسلحے ، ریڈار اور تیر رفتار کمپیوٹر سسٹم سے لیس کیا جا رہا تا کہ وہ چین کے فورتھ جنریشن طیاروں جے 10 کے سامنے ٹھہر سکیں۔ اس کے علاوہ امریکی فضائیہ نے کچھ عرصہ قبل ایف 22 اسلحہ پروگرام کو جدید بنایا تاکہ اس کو مضبوط اور بہتر بنایا جا سکے۔
0 Comments