Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

شیعہ سنی فساد ات کی وجوہات : مسائل کا حل آخر کیسے ممکن؟




 قرآن حکیم میں ارشاد ہوا ہے:
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہاری موت صرف اسی حال پر آئے کہ تم مسلمان ہو۔ اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔"
(آل عمران 102, :3:103)


ماہ محرم الحرام 1442 ہجری، کو ملک پاکستان میں فرقہ واریت کی لہر نے جنم لیا اور اس آگ میں سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک نے ایندہن کا کام دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر جانب سے کہیں اصحاب کی توہین کی گئی اور کہیں سے مسلمانوں کی تکفیر کی گئی اور کہیں سے غم حسین علیہ السلام پر بدعت کے فتویٰ لگائے گئے۔
پھر اچانک سے تشیع و تسنن ،دونوں اطراف کے لوگوں کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) کٹوانے کا سلسلہ جاری رہا اور سینکڑوں لوگ مذہبی منافرت اور فساد  پھیلانے کے جرم اور کبھی الزام میں جیل پہنچے۔
وزیراعظم عمران خان نے سخت الفاظ میں بیان دیا کہ "عاشورہ کے دوران فرقہ واریت کے شعلوں کو بھڑکانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔"

اب ہمیں اس چیز پر غور کرنا ہوگا کہ شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف کس بات کا ہے اور اس کا حل کیسے ممکن ہوسکتا ہے، اور اس فساد کے دوران ضائع کردینے والی توانائی کو کہیں متبادل جگہ اور کیسے صرف کریں۔

پہلا سوال جو ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا اسلامی مسالک میں فقط شیعہ اور سنی کا ہی آپسی اختلاف ہے؟

اگر ہم اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی تگ و دو کریں تو ہم پر بہت سے حقائق آشکار ہوتے ہیں۔
پہلی حقیقت یہ کہ فقط شیعہ اور سنی ہی آپس میں دست و گریباں نہیں بلکہ بریلوی اور دیوبندی  اور کبھی اہل حدیث ، ان مسالک کے درمیان بھی شدید قسم کے اختلافات ہیں اور تکفیر تک بات جاتی رہتی ہے۔

اس سے ایک بات تو مکمل روشن ہو جاتی ہے کہ شیعہ / سنی فسادات کو مرکزی دھارے میں لایا جاتا  ہے اور نمایاں کرکے دکھایا جاتا ہے اور مزید ظلم یہ کہ پاکستان کی سرزمین کو زرخیز سمجھتے ہوئے یہاں فسادات کروائے اور آزمائے جاتے ہیں۔

کیا شیعہ اور سنی اختلاف آج کا ہے یا تاریخ میں بھی کچھ اس متعلق ملتا ہے؟

اختلاف سے ہمیشہ مراد ہوتا ہے علمی، فقہی، تاریخی، بنیادی اور نظریاتی نقطہ نظر کا مختلف ہونا جبکہ اس کے علاؤہ اختلاف کو فساد کی شکل دینا یہ انتہائی گھٹیا اقدام ہے۔
اسلامی تاریخ دان عروہ ابن زبیر (متوفی 712ھ) سے ابو محمد الحسن الحمدانی (متوفی 945ھ) اور پھر ابو بکر بن یحیی السلی (متوفی 946ھ) 
سے مرزا مہدی خان استر آبادی (متوفی 1760عیسوی) اور پھر  علامہ محمد اقبال (1877 عیسوی) تک کے تاریخ دانوں ، جو جو حق و سچ کے قائل ہیں کہ مطابق تشیع (شیعیت) اور تسنن (اہلسنت) دونوں مکاتب فکر رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد نظریاتی خصوصاً مسئلہ خلافت کے بعد وجود میں آئے۔

اہلسنت کے مطابق حضرت ابوبکر رض کو حق خلافت حاصل تھا اور اہل تشیع کے نزدیک خلافت کیلئے سب سے موزوں شخص حضرت علی ع تھے۔   اہلسنت مسلک، خلافت کا قائل ہے جبکہ مسلک اہل تشیع امامت کا قائل ہے۔

کیا کسی بھی مسلک یا فرقے یا طبقے کو رسول اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی سند دی ہے؟

کسی بھی فرقے اور مسلک کے نام پر خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کا پروانہ جاری نہیں کیا اگر کوئی اس زعم میں مبتلا ہوکر یہ خیال کرلے کہ اگر میں فلاں مسلک سے تعلق رکھتا ہوں تو میں جنت کا حقدار ٹھہرا ہوں تو یہ سب خام خیالی اور خود فریبی ہے۔ یہ بلکل ویسی ہی بات ہے جیسے یہودیوں کی نفسیات کارفرما ہوتی ہے کہ جو یہودی ہوگیا وہ فلاح پاگیا۔ جس کی شہادت قرآن نے یوں دی ہے کہ 
"اور اھل کتاب کہتے ہیں کہ جنت میں ہرگز کوئی داخل نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ یہودی ہو یا نصرانی ، یہ ان کی باطل امیدیں ہیں، آپ فرمادیں کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو اپنی (اس خواہش پر) سند لاؤ۔" (البقرہ 111:2)

فرقہ واریت کا خاتمہ کیسے ممکن ہے: مسئلہ کا حل؟

1: علمائے دین کیلئے جدید عصری تعلیم کا انتظام، تاکہ اپنی بات یا نظریہ آگے بتانے اور مخالف کا نظریہ یا عقائد کو تسلیم کا حوصلہ بیدار ہو۔

2: مدارس کو بھی وہی سہولیات فراہم کرنا جو کہ آج کل کے تعلیمی اداروں کو حاصل ہیں تاکہ مدارس بھی  بیت الاسلام تلہ کنگ جیسے اپنے طلبا کو تیار کریں جیسے انہوں نے عالمی سطح پر آپنا لوہا منوایا ہے۔

 مثبت اور غیر تنقیدی تعلیم کا اسلوب بنانا۔ :3 

4: خفیہ طور پر فرقہ پرستی کی حوصلہ شکنی کے خلاف موثر اقدامات اٹھانا۔

5: دینی تعلیم کیلئے تمام مسالک کے مشترکہ اداروں کا قیام ، جہاں شیعہ (جعفریہ) ، سنی (حنفی، حنبلی، شافعی اور مالکی) اور اہل حدیث برادران مل جل کر تعلیم حاصل کریں اور ایک دوسرے کے عقائد کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ عدم برداشت ختم ہو۔

6: شیعہ غیر زمہ دار حضرات کی جانب سے صحابہ کرام کی عزت و ناموس کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور آل محمد ص کی عظمت، تعلیمات اور مقصد حسینی ع کو اجاگر کرکے اپنی توانائی کو وقت کے یزیدیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور اہلسنت برادران  کی جانب سے عزاداری کے خلاف کوئی بات نہ ہو ، تکفیر نہ کی جائے 

7: سوشل میڈیا پر اختلافی موضوعات پر بحث کرنے پر پابندی عائد کی جائے اگر علمی بحث کرنی  ہو تو علمی نشست کے طور پر کی جائے نہ کہ سوشل میڈیا پر ، جس سے آج تلک  کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔


Post a Comment

0 Comments