Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

ایبٹ آباد تھانہ بکوٹ کی حدود میں قائم غیر قانونی ٹارچر سیل میں نوجوان پر تشدد



اسلام آباد : (جاگو پاکستان) بیروٹ ایبٹ آباد تھانہ بکوٹ کی حدود میں قائم ہو چکا ہے ایک غیر قانونی ٹارچر سیل جی ہاں بلکل ایک ایسا ٹارچر سیل جس میں شہریار نامی ایک نوجوان پر موبائل چوری کا الزام لگا کر اس قدر تشدد کیا گیا کے یہ نوجوان روالپنڈی کے ایک ہسپتال میں ایمرجنسی میں اس وقت بے ہوشی کی حالت میں ہے۔

تشدد ایسا کیا گیا کے انسانیت بھی شرما جائے،اس نوجوان کے پاخانیں والی جگہ پر ایک پائپ ڈال کر اس کے اندر پیسٹ مرچیں ڈالی گئی جس کی وجہ سے نوجوان کی حالت اس قدر غیر ہو گئی کے آج شام کو ڈاکٹرز نے ایمرجنسی میں اسکا ایک آپریشن کیا جو 5 گھنٹے لگا تار جاری رہا تاہم نوجوان ہوش میں نہیں آیا۔
اس لڑکے کا والد ایک انتہائی غریب آدمی ہے جو ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے۔آج شام جب نوجوان کی حالت غیر ہوئی تو اس کی ماں اور گھر کی چند خواتین روتے ہوئے تھانہ بکوٹ میں پہنچی اور اپنی فریاد سنائی جس پر پولیس کا فوری ریسپانس آیا اور پولیس نے اے ایس آئی افسر شاہ کی نگرانی میں چھاپہ مارا پر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

اس موقع پر ایس ایچ ہو تھانہ بکوٹ کا بیان سامنے آیا ہے کے تھانہ بکوٹ مظلوموں کے ساتھ برپور تعاون کی یقین دہانی کرواتا ہے اور وارثوں سے گزارش ہے کے وہ تھانہ بکوٹ کے ساتھ بھی تعاون کریں۔

پاکستان کے قانون کے مطابق کسی کو اختیار حاصل نہیں کے وہ کسی کو خود سزا دے اور وہ بھی ایسی غیر انسانی سزا جس میں جان بھی جا سکتی ہے۔

ایس ایچ او تھانہ بکوٹ سے اپیل کی جاتی ہے کے وہ اس کیس کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق فوری طور پر شروع کریں انشا اللہ اہل علاقہ اس ظلم کے خلاف تھانہ بکوٹ سے برپور تعاون کریں گے۔

Post a Comment

0 Comments