
اسلام آباد : (جاگو پاکستان) اسلام آباد چڑیا گھر سے شیر اور شیرنی کی منتقلی کے دوران ہلاکت پر ہائی کورٹ نے وزير مملکت زرتاج گل اور امین اسلم کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ کيا ہے، جب کہ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو اگلی سماعت پر طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 اگست بروز پیر چڑیا گھر سے شیر اور شیرنی کی منتقلی کے دوران ہلاکت پر درخواست کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ شیروں کے ساتھ کیا ہوا، عدالت نے تعین کیا تھا کہ اگر کسی جانور کو کچھ ہوا تو کون ذمہ دار ہوگا، جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شیر اور شیرنی کو لاہور منتقل کیا جا رہا تھا، منتقل کرنے کے لئے پروفیشنلز کی خدمات لی گئی تھیں۔اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی،ایم سی آئی اور وائلڈ لائف بورڈ صرف سیاست کر رہے ہیں، تینوں محکمے ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ متعلقہ محکموں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، کیا ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی گئی، عدالت تمام ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرے گی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا اس معاملے کی انکوائری کون کر رہا ہے؟، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کا نمائندہ انکوائری کر رہے ہیں۔ جس پر عدالت نے کہا کیا وہ اپنے خلاف انکوائری کرینگے، آپ نے عدالت کے فیصلے کا مذاق بنا دیا ہے۔چیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ جو ریاستی نمائندے جانوروں کا خیال نہیں رکھ سکتے وہ انسانوں کا کیا خیال رکھیں گے، بیان دے کر کریڈٹ لینا آسان ہے، وفاقی حکومت خود ایکسپوز ہوگئی۔عدالت نے شیروں کے جوڑے کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے نام طلب کرتے ہوئے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو بھی کل 4 اگست کو عدالت طلب کرلیا۔
0 Comments