Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

بلوچستان کی صوبائی نشستوں میں اضافے کا آئینی ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد : (جاگو پاکستان) بلوچستان کی صوبائی نشستوں میں اضافے کا آئینی ترمیمی بل ایوان بالاء سے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔ بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بلوچستان اسمبلی کی نشستیں 63 سے بڑھ کر 80 ہوجائیں گی۔ اپوزیشن نے قائد ایوان کے ریمارکس پر ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا۔ آئین کے آرٹیکل 106 میں ترمیم سے متعلق آئینی ترمیمی بل سینیٹر سجاد حسین طوری، سینیٹر احمد خان، کہدہ بابر، منظور کاکڑ اور نصیب اللہ بازئی سمیت دیگر سینیٹرز کی جانب سے متفقہ طور پر پیش کیا گیا۔ حکومت سمیت کسی بھی رکن نے بلوچستان اسمبلی کی نشستیں 63 سے بڑھا کر 80 کرنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 106 میں ترمیم کی مخالفت نہ کی۔

وزیرمملکت علی محمد نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آج وقت آگیا ہے کہ بلوچستان اور فاٹا کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ جو کام ماضی میں نہیں ہوا وہ عمران خان کریں گے۔

ایوان میں موجود تمام 71 ارکان نے بل کی حمایت کی اور اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ حکومت نے ہائیکورٹس کے مزید بینچز کے قیام سے متعلق کی آئینی ترمیمی بل دوبارہ کمیٹی کو بھیجنے کی استدعا کی، جس کی سینیٹر جاوید عباسی نے مخالفت کی۔ چیئرمین نے اس پر ووٹنگ کرائی تو بل کمیٹی کو بھیجنے کی مخالفت میں 57 اور حق میں 13 ووٹ آئے۔ حکومتی تجویز کثرت رائے سے مستردکردی گئی۔

اس معاملے پر قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کے ریمارکس پر اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آؤٹ کیا۔ وسیم شہزاد نے کہا کہ ہر چیز کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ اپویشن کی مرضی پر قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔

پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے  وزیر ہوابازی غلام سرور خان اور ایوی ایشن ڈویژن کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی۔ انہوں نے  کہا کہ کمیٹی اجلاس میں پائلٹ کے جعلی لائسنس کے معاملے پر سول ایوایشن اور وفاقی وزیر کے بیان میں تضاد سامنے آیا۔ وفاقی وزیر اور ایوی ایشن ڈویژن کمیٹی کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ ہم نے وزیر ہوابازی کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروائی ہے، ان کی جانب سے کوئی بھی جواب نہیں آیا۔ اس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی دوہری شہریت کا معاملہ ایوان بالا میں اٹھاتے ہوئے اس پر سوالات اٹھادیئے۔ شیری رحمان نے کہا کہ کس حیثیت سے یہ لوگ کابینہ کے رکن بنے ہوئے ہیں؟ دوسرے ممالک کی وفاداری کا حلف اٹھانے والے کیسے پاکستان کے خیرخواہ ہوسکتے ہیں؟ یہ پیرا شوٹ کے ذریعے آئے ہیں، اسی پیراشوٹ سے نکل جائیں گے۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ اسپیشل اسسٹنٹ کے عہدے کا پاکستان کے آئین میں کوئی ذکر نہیں۔ ایک شخص جو آرٹیکل 151 کے تحت ووٹ نہیں دے سکتا یا اسمبلی یا پارلیمان کا ممبر نہیں بن سکتا۔ ایسے شخص کو کابینہ میں بٹھا کر آپ ملک کے فیصلے کروا رہے ہیں۔

سینیٹ میں پیرامیڈیکل اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ سینیٹ اجلاس بدھ کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔



Post a Comment

0 Comments