Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

کروناآزمائش ہے،اللہ کی رحمت کےدروازے کھلےہیں،خطبہ حج

اسلام آباد : (جاگو پاکستان) شیخ عبداللہ ال منیع نے خطبہ حج میں کہا ہے کہ دنياوی زندگی کبھی مصائب اورمشکلات سےخالی نہيں ہوتی،جن لوگوں نے صبر کيا ان کے ليے بہترين بدلہ ہے، اللہ کی طرف سےکوئی مصيبت آتی ہےتونعمتيں بھی يادرکھو، اللہ تعالیٰ کافرمان ہےکہ ہرمشکل کےساتھ آسانی ہے۔

 جمعرات کومسجد نمرہ میں شیخ عبداللہ ال منیع نے خطبہ حج دیا۔ خطبہ حج کا 10 زبانوں میں ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔

شیخ عبداللہ ال منیع نے خطبہ حج میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بدعت اور نئے کاموں کی نفی فرمائی ہے، حضورﷺنےاپنی زندگی خیرکی دعوت کیلئےوقف کی ۔

انھوں نے کہا کہ  جن لوگوں نے صبر کیا ان کے لیے بہترین بدلہ ہے، تقویٰ کے ذريعے انسان گناہوں سے بچتا ہے، جواللہ سےڈرےگا،اللہ اس کےليےمشکل ميں آسانی پيداکرےگا، سیدھےراستےپرچلنےوالےکیلئےہی نجات ہے۔

شیخ عبداللہ ال منیع کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ  زمين و آسمان کا مالک ہے، عبادت سےہی مصيبت سےچھٹکارہ ملتاہے، لوگوں اس رب کی عبادت کروجس نے تمہيں پيدا کيا، جس نےرات دن کوپيداکيا،اس ہی کی عبادت کرو، اللہ تعالیٰ کےحکم سےہی مصيبتيں آتی اوردورہوتی ہيں۔

خطبہ حج میں بتایا گیا کہ انسان کو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ اسلام میں سب کو حقوق متعین ہیں۔ تمام مشکلات میں حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔لوگوں کے ساتھ تعاون کے لیے احسان کا معاملہ کرنا چاہئے۔اگر والدین بوڑھی عمر تک پہنچ جائیں تو ان کو نہ ڈانٹو اور دعا کریں کہ اللہ ہمارے ساتھ اچھا معاملہ کریں جب ہم اس عمر کو پہنچ جائیں۔

حج کا رکن اعظم ادا کرديا گيا۔مسجد نمرہ ميں الشيخ عبداللہ بن سليمان المنيع نے خطبہ حج ديا۔ظہر اورعصر کی نمازیں اکھٹی ادا کی گئیں۔ غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوجائیں گے۔ مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک وقت میں پڑھنے کے بعد حجاج کرام جمعرات کی شب مزدلفہ میں گزاریں گےجہاں اس بار وہ کنکرياں جمع نہيں کريں گے بلکہ انھيں انتظاميہ کی جانب سے کنکريوں کے پيکٹ ديے جائيں گے۔

جمعہ 10ذوالحج کوحجاج کرام مزدلفہ میں نماز فجر ادا کر کے منی واپس لوٹیں گے۔ یہاں پہنچ کر سب سے بڑے جمرات العقبہ کو کنکریاں ماری جائیں گی۔اس کے بعد قربانی ہوگی اور پھر حجاج کرام سر منڈا کر احرام کی حالت سے باہر آ جائیں گے۔ اسی روز مکہ مکرمہ میں مسجد حرام میں طواف زیارت کیا جائے گا اور رات منی واپس آ کر گزاری جائے گی۔مطاف کے صحن کے علاوہ داخلی اور خارجی راستوں پر رہ نمائی کے بورڈز اور اسٹیکرز لگائے گئے ہيں۔مسجد الحرام اور اس کے اطراف حجاج کرام کی نقل وحرکت کو آسان اور منظم بنايا جارہا ہے تاکہ سماجی فاصلہ قائم رہے۔ہرحاجی کونماز کے لیے ایک جائے نماز پیش کی جائے گی جوجراثیم کش مواد سے صاف کی ہوئی ہوگی۔

Post a Comment

0 Comments