Latest News

10/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

کوروبا وبا کے حوالے سے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ مرکز کی سطح پر ہونا چاہیے تھا، ہم اس حوالے سے کوئی مشترکہ پالیسی نہ بنا سکے، دنیا میں اگر کسی ملک کے فیصلوں میں ابہام نہیں تھا تو وہ پاکستان تھا، وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد : (جاگو پاکستان) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوروبا وبا کے حوالے سے لاک ڈاﺅن کا فیصلہ مرکز کی سطح پر ہونا چاہیے تھا، ہم اس حوالے سے کوئی مشترکہ پالیسی نہ بنا سکے، دنیا میں اگر کسی ملک کے فیصلوں میں ابہام نہیں تھا تو وہ پاکستان تھا، ٹڈی دل کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے این ڈی ایم اے بھرپور اقڈامات اٹھا رہا ہے، کرونا وبا کے حوالے ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا، بے احتیاطی سے ہم مشکل میں پڑ جائیں گے، ہسپتالوں پر دباﺅ بڑھ جائے گا، این سی او سی صوبوں سے رابطے کے لئے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، 100 سال میں پہلی بار ایسا بحران آیا ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے امریکہ سے برابری کے تعلقات ہیں،آج امریکہ نے تسلیم کیا کہ عمران خان درست کہتا تھاکہ افغانستان کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے،ٹرمپ اب عزت دیتا ہے اور افغانستان میں حمایت کے لئے درخواست کرتا ہے،افغانستان میں امن عمل مذاکرات کے لئے پاکستان کا بڑا ہاتھ ہے،سعودی عرب سے ہمارے بڑے زبردست تعلقات ہیں۔ ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لئے کوشش کر رہے ہیں،ہمیں ایران اور سعودی عرب نے دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کی درخواست کی،کوئی جنگ کبھی کسی مسلہ کا حل نہیں ہوتا، ھم دونوں ممالک کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے تو بھارت اور پاکستان کے درمیان آگے بڑھنے کے بہت مواقع ہیں،پانچ اگست کو کشمیر کو غیرقانونی طریقہ سے بھارت کا حصہ قراردینے کی کوشش کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ہندوتوا کے نظریے کا مقابلہ ہے، بھارت ہمیں دباکر رکھنا چاہتے ہے۔انہوں نے کہا کہ اب بھارت نے کئی جگہ پر آزادکشمیر کو اپنے حصہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نےاقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا،مودی بہت بڑاجنونیت پسند ہے،آج بھارت پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے، آج پاکستان کی بات سنی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 1965ءکے بعداب دومرتبہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا گیا مسئلہ کشمیر آج دنیا کے اندر بھرپور انداز میں اٹھایا جارہا ہے، ہم اس مسئلہ کو آگے لے کر جائیں گے،کشمیر کی موومنٹ اب رک نہیں سکتی۔وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی قوم کی ایک وژن کے بغیر نہیں چل سکتی،پاکستان کا بھی اسلامی فلاحی ریاست کا وژن ہے، ھم نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فاٹا اور بلوچستان کو بجٹ میں پورا حصہ دے رہے ہیں۔ چاروں صوبوں نے زبان دی تھی کہ تین فیصد سابق فاٹا کو دیں گے ،صوبے تین فیصد کا وعدہ پورا کریں۔ بھارت پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔ بھارت فاٹا میں مداخلت کررہا ہے ۔ فاٹا میں ترقی ہی بھارتی مداخلت روک سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے دو بڑے کام کئے ‘ تین سطحی تعلیمی نظام چل رہے ہیں۔ ایک نصاب مارچ 2021ء میں لاگو ہونے جارہا ہے۔ مدارس کے بارے میں کیوں نہیں سوچا گیا کہ وہ بھی ڈاکٹرز وکیل بن سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں سب سے بڑی کامیابی ہوئی ہے۔ امریکہ کے حوالے سے تعلقات پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہم نے امریکہ کا ساتھ دیا مگر الزام بھی ہم پر لگا دیا ۔ دوواقعات کبھی نہیں بھولتے ۔ ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مار دیا۔ ہمارا اتحادی ہمارے ملک میں آکر اس طرح کا آپریشن کرتا رہا امریکہ ڈرون حملے کرتا رہا ۔ ایڈمرل مِلن سے پوچھا گیا کہ ڈرون کیوں کررہے ہیں‘ ملن نے کہا پاکستانی حکومت کی مرضی سے ڈرون کررہے ہیں ۔ہماری حکومتیں ڈرون حملوں کی ظاہری مذمت کررہی تھیں۔ ہم نے حکومت میں آتے ہی کہا ہم جنگ نہیں امن میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ہم کسی کی جنگ نہیں لڑرہے ہیں۔ آج ہم پر دوغلا پن کا الزام بھی نہیں لگ رہا ہے،آج ٹرمپ عزت دیتا ہے اور افغانستان میں مدد کی درخواست کرتا ہے ،آج ہماری بات امریکہ کو ماننا پڑی اور امن عمل ہورہا ہے ۔ امریکہ سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔ سعودی عرب اور ایران دونوں نے ہمیں صلح کرانے کے لئے کہا ہے۔ ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح کا کردار ادا کررہے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments