
سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کی جانب سے دائر ریفرنس کالعدم قرار دیدیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے اثاثے ظاہر نہیں کئے تھے، سپریم کورٹ میں قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر 41 سماعتیں ہوئیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
:مئی 28، 2019ء
سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔
:مئی 29، 2019ء
زاہد ایف ابراہیم نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ انہوں نے ریفرنس کو آزاد افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کی عدلیہ کو پامال کرنے کی غیر ذمہ دارانہ کوشش قرار دیا۔ زاہد ابراہیم نے اپنا استعفیٰ ٹویٹر پر بھی جاری کیا۔مئی 30، 2019ءسندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ریفرنس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدنیتی پر مبنی اقدام ہے جس کا مقصد عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کو مجروح کرنا ہے۔یکم جون 2019ءپیمرا نے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس پر تبصرہ کرنے پر 14 نجی ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کئے۔جون 2، 2019ءحکومت کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں 3 ججز کیخلاف غیر ملکی اثاثے رکھنے پر ریفرنس دائر کئے گئے ہیں۔ایسٹ ریکوری یونٹ کی جانب سے شکایت وزارت قانون و انصاف کو بھجوائی گئی۔ ایسٹ ریکوری یونٹ نے اس کی تصدیق کی اور متعلقہ اثاثوں کی لینڈ رجسٹریوں سے مصدقہ کاپیاں حاصل کیں، جن کی برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے قانونی طور پر تصدیق کی گئی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ تمام معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کو فراہم کی گئیں اور دو ریفرنس دائر کئے گئے ہیں۔جون 14، 2019ءسپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی سماعت کا آغاز کیا، یہ سماعت ایک گھنٹہ 45 منٹ جاری رہی۔جولائی 2، 2019ءجوڈیشل کونسل میں کیس کی دوسری سماعت ہوئی تاہم اٹارنی جنرل اور ملزم جج میں سے کوئی بھی کونسل کے سامنے پیش نہیں ہوا۔ اس کارروائی کا دورانیہ محض 10 منٹ رہا۔جولائی 13، 2019ءسپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ کیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف اثاثوں کی تفصیلات میں غیر ملکی جائیدادیں ظاہر نہ کرنے پر کارروائی کی جائے۔اٹارنی جنرل انور منصور خان نے مبینہ بدانتظامی پر دستاویزات جمع کرائیں۔جولائی 16، 201ءجسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کی کہ ان کا جواب عام اور وہ شواہد بھی فراہم کئے جائیں جن کی بنیاد پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔جولائی 18، 2019ءسپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس عیسیٰ کو صدر مملکت کو عارف علوی کو خط لکھ کر اپنے خلاف ریفرنس فائدل کرنے سے متعلق پوچھنے پر ایک اور شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل وحید شہزاد بٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف شکایت درج کرائی۔اگست 7، 2019ءجسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا اور درخواست کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اس پٹیشن کا فیصلہ آنے تک کارروائی سے روکا جائے۔انہوں نے لاہور کے وکیل کی جانب سے دائر ریفرنس کو بھی چیلنج کردیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہوں نے صدر مملکت کو خط لکھ کر اور اسے میڈیا کو فراہم کرکے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔اگست 10، 2019ءسپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف اداروں کیخلاف انتشار پھیلانے ک االزام عائد کیا۔اگست 16، 2019ءسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے باعث جج کیخلاف ریفرنس دائر کیا تھا۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ ریفرنس کے بنیادی حوالہ جات میں فیض آباد کیس کا فیصلہ لکھنا شامل ہے، جس کے باعث حکمران جماعتوں اور حکومت کی ظاہری اور پوشیدہ شاخوں میں ناراضی پھیلی۔اگست 19، 2019ءسپریم جوڈیشل کونسل نے صدر عارف علوی کو خط لکھنے پر قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس خارج کردیا۔کونسل نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ جسٹس فائز کی جانب سے صدر کو لکھے خطے نجی خطوط سنجیدہ یا سنگین (قواعد کیخلاف) نہیں پائے گئے جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے جج کو عہدے سے ہٹایا جاسکے۔ستمبر 12، 2019ءاس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے ریفرنس کیخلاف دائر پٹیشن کی سماعت کیلئے عدالت عظمیٰ کا 7 رکنی بینچ قائم کیا، جسٹس عمر عطاء بندیال کو بینچ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔دیگر ممبران میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز احسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل تھے۔ستمبر 16، 2019ءجسٹس فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے فل کورٹ بینچ قائم کرنے درخواست کی، جس میں تمام قابل احترام ججز شامل ہوں۔ستمبر 17، 2019ءسپریم کورٹ کے دو ججز نے خود کو سماعت سے الگ کرلیا۔جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے جسٹس احسن اور جسٹس طارق کو الگ کرنے کیلئے پٹیشن فائل کی تھی، جس میں عدلیہ کے تحفظ کیلئے ریزرویشن کا اظہار کیا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ مذکورہ ججز کو جسٹس فائز کو ہٹانے جانے سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، ایک جج 6 ماہ چیف جسٹس کے فرائض انجام دے گا جبکہ دوسرے جج کی بطور چیف جسٹس معیاد بڑھا دی جائے گی۔ستمبر 18، 2019ءفیصلہ کیا گیا کہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ کرے گا۔حکم نامے میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں شفافیت اور کیس میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے فل کورٹ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ستمبر 25، 2019ءسپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کیخلاف دائر جسٹس فائز عیسیٰ کی پٹیشن ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرلی۔عدالت عظمیٰ نے صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔اکتوبر 7، 2019سپریم جوڈیشل کونسل نے صدر مملکت کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کے دوران جانبداری برتنے کے جسٹس فائز عیسیٰ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔کونسل کا کہنا تھا کہ ریفرنس سے متعلق ان کا مؤقف مکمل طور پر غیر جانبدار تھا۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں ہونیوالی کارروائی کو جوڈیشل ریویو سے استثنیٰ حاصل ہے۔اکتوبر 13، 2019ءجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت ک بتایا کہ ان کیخلاف ریفرنس ‘‘وچ ہنٹ’’ کا حصہ تھا جس کا مقصد ججز کو خاموش کرنا تھا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے خاندان کی ملکیت تینوں جائیدادوں کی مجموعی قیمت پاکستان کے کسی پوش علاقے میں ایک کنال کے پلاٹ کی قیمت سے بھی کم ہے۔انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی اہلیہ دوہری شناخت رکھتی ہیں، جسٹس فائز نے بتایا کہ انگلش اور ہسپانوی زبانوں کی اسپیلنگ اور تلفظ میں فرق ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی اہلیہ کی ہسپانوی دستاویزات میں کچھ فرق ہے۔اکتوبر 14، 2019ءجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق جج کے ریمارکس ان کیخلاف ریفرنس کا باعث بنے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘‘خاص ذہنیت رکھنے والے’’ جج کو ‘‘مربوط کوششوں’’ کے ذریعے نشانہ بنارہے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک بار پھر سپریم جوڈیشل کونسل کی غیر جانبداری پر سوال اٹھایا جب کونسل نے کیس میں 17 صفحات پر مشتمل اپنا جواب جمع کرایا۔انہوں نے اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے جواب پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل صرف ‘‘وفاقی حکومت کو مشورہ دے سکتا ہے’’ اور دیگر ذمہ داری ادا کرسکتا ہے جو حکومت کی جانب سے ‘‘اسے منتقل یا تفویض کی جائیں’’۔نومبر 28، 2019ءایسٹ ریکوری یونٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جائیدادوں کا پتہ لگانے کیلئے کس طرح فنڈز اکٹھے کئے۔فروری 18، 2020ءجسٹس فائز عیسیٰ نے الزام لگایاکہ حکومت ان کی اور ان کے خاندان کی جاسوسی کرکے غیرقانونی طریقے سے ثبوت اکٹھے کررہی ہے۔ انہوں نے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں کہا کہ اس قانون کے تحت جج اور اس کے اہل خانہ کی نگرانی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، وہ تمام لوگ جنہوں نے ایسا کیا ان کیخلاف فوجداری مقدمہ چلایا جاسکتا ہے، جس کا حکم یہ عدالت بڑی خوشی سے دے سکتی ہے۔فروری 21، 2020ءاٹارنی جنرل انور منصور خان کی جانب سے استعفیٰ دینے کے باعث حکومت نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔فروری 24، 2020ءنئے مقرر کئے گئے اٹارنی جنرل بیرسٹر خالد جاوید خان نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے سے معذرت کرلی۔یکم جون 2020ءبیرسٹر فروغ نسیم نے جسٹس فائز عیسیٰ کی پٹیشن میں حکومت کی نمائندگی کیلئے وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔دوسری جانب جسٹس فائز عیسیٰ نے فروغ نسیم کو ‘‘ٹاؤٹ’’ قرار دیتے ہوئے عدالت سے درخواست کی انہیں حکومت کی نمائندگی کی اجازت نہ دی جائے۔جون 2، 2020ءشہزاد اکبر نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیس میں درخواست گزار یا اس کے اہل خانہ کی کسی بھی طرح کی نگرانی نہیں کی گئی۔ برطانیہ میں تمام غیر منقولہ جائیدادوں کا یو کے لینڈ رجسٹری میں اندراج ہے اور کسی بھی شخص کو اس تک رسائی حاصل ہے۔جون 3، 2020ءعدالت عظمیٰ نے فروغ نسیم سے کہا کہ وضاحت کریں ایک جج کیخلاف وفاقی حکومت نے کس طرح شواہد اکٹھے کئے۔فروغ نسیم نے دعویٰ کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے خاندان کی جائیدادوں کی منی ٹریل فراہم نہیں کرسکے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جج کیخلاف بے ایمانی یا بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں۔جون 11، 2020ءجسٹس مقبول باقر نے کیس کے دوران ریمارکس دیئے کہ ماضی میں بھی ایک منتخب حکومت ججز کی جاسوسی کے الزام میں برطرف کی جاچکی ہے۔بے نظیر بھٹو کو نومبر 1996ء میں ججز کی جاسوسی، متعدد کوتاہیوں اور ناکامیوں پر وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔جون 15، 2020ءفروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ صدارتی ریفرنس کی معطل کی صورت میں حکومت، صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر قانون نتائج کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔جون 16، 2020ءسپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو تجویز دی کہ جج کے اہل خانہ کیخلاف ٹیکس چوری کی کارروائی شروع کرنے کیلئے ‘‘مناسب طریقہ کار’’ اختیار کریں۔ بینچ کا کہنا ہے کہ ریفرنس میں کئی سقم ہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ریکوری یونٹ ‘‘مکمل طور پر بے لگام اور ناقابل احتساب’’ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات بغیر کسی قانون کی جاتی ہیں۔جون 17، 2020ءجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت کو یہ بتا کر چونکا دیا کہ ان کی اہلیہ عدالت کو یہ وضاحت دینے پر آمادہ ہیں کہ انہوں نے کس طرح اپنی بیرون ملک جائیدادیں خریدیں۔فروغ نسیم نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے اس معاملے کو ایف بی آر کے حوالے کرنے کی تجویز پر بات کی ہے۔جون 18، 2020ءسپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو برطانیہ میں جائیدادوں کی خریدار کیلئے آمدن کے ذرائع بتانے کی اجازت دیدی۔سرینا عیسیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور خریدی گئی تینوں جائیدادوں کی خریداری کی تفصیلات اور منی ٹریل فراہم کی۔فروغ نسیم نے دعویٰ کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ وزیراعظم کی برطانیہ میں کوئی جائیداد ہے تو وہ استعفیٰ دیدیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہزاد اکبر کی بھی وہاں کوئی جائیداد نہیں ہے۔جون 19، 2020ءسپریم کورٹ آف پاکستان کے 10 رکنی فل بینچ نے اپنا فیصلہ سنادیا، صدر مملکت کی جانب سے دائر ریفرنس معطل کردیا۔ ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرینا عیسیٰ کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرائے۔
0 Comments