اسلام آباد (جاگو پاکستان) :
عدل و انصاف کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے
پاکستان کا نظامِ عدل ہمیشہ سے ایک سوالیہ نشان رہا ہے۔ بدقسمتی سے عدالتوں کے بہت سے فیصلے متنازع رہے،جس کی ایک وجہ، غلط یا درست، یہ تاثر ہے کہ عدالتیں مبینہ طور کسی نہ کسی قوت کے زیر اثر فیصلے کرتی ہیں۔پورا پاکستان چند دن سے ایک نیا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں عثمان ملک نامی شخص کی بیوی آمنہ ملک اپنے گارڈز کے ہمراہ ایک گھر میں گھس کر فلم اداکارہ عظمیٰ خان پر بہیمانہ تشدد اور توڑ پھوڑ کرتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں عظمیٰ خان کے ان کے شوہر کے ساتھ کافی عرصے سے تعلقات ہیں۔
آمنہ ملک کے مطابق انہوں نے عظمیٰ کو کئی بار منع کیا لیکن وہ باز نہ آئیں جس پر انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ اگر قانون کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو وجوہات جو بھی ہوں، اس طرح گارڈز کے جتھے لے کرایک گھر میں ڈاکوؤں کی مانند گھسنا اور یوں مار پیٹ و توڑ پھوڑ کرنا مجرمانہ فعل ہے جس کی سزا ہونی چاہیے۔
اصولی طور پر آمنہ ملک کو اپنے شوہرعثمان سے بات کرنی چاہیے تھی، اگر گھر ٹوٹنے سے بچانا تھا تب بھی اور اگر علیحدگی اختیار کرنا تھی تب بھی۔اس طرح کسی خاتون پر حملہ کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔
کوئی بھی اپنے گھر والے کو چھوڑ کر دنیا کو سدھارنے کے لیے نہیں نکل سکتا۔ لیکن اس کیس میں ہوا کیا؟ آمنہ ملک نے عظمیٰ خان پر تشدد کیا، گارڈز کو عظمیٰ کے ساتھ نازیبا حرکتیں کرنے کو کہا اور گالیاں دیں۔
ان کا انداز ایسا تھا جیسے وہ عوامی تھانےدار ہوں، پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اس واقعے کی ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے عظمیٰ خان کی عزت کا جنازہ نکال دیا گیا۔
.Follow us on Facebook and YouTube

0 Comments