اسلام آباد : (جاگو پاکستان) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دواڑھائی سالہ دورمیں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔
تاہم ایک وزیراعظم اور ان کے وزرا ہیں جو نہ جانے اتنے اعتماد سے اپنی تقریروں میں معیشت کی بہتری اور اشیا کے سستے ہونے کے دعو ے کررہے ہیں ۔
اگست 2018سےلےکر اب تک اشیائے ضروریہ کے نرخ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔ کسی ذہنی طور پر تباہ حال شخص کو بھی مندرجہ ذیل اعداد و شمار دکھائے جائیں تو وہ یہی سوال پوچھے گاکہ کون سی مہنگائی کم ہونے کی بات کی جارہی ہے۔
اگست 2018 میں آٹا 38 روپے 56 پیسے فی کلو تھا،اس وقت آٹے کی اوسط فی کلو قیمت 47 روپے ہے، بیف اگست 2018 کےمقابلےمیں جنوری2021میں اوسط100 روپے فی کلومہنگا ہوگیا، مٹن 213 روپے مہنگا ، 782 روپے 49 پیسے سے بڑھ کر اوسط فی کلو قیمت 995 روپے 67 پیسے رہی،
دودھ ،دہی کی اوسط فی کلوقیمت بھی 20 روپے بڑھ گئی،گھی 134روپےفی کلو مہنگا ہوا، دال مسور 41روپے، دال ماش 106روپے، دال مونگ 118 روپے ، دال مسور 41 روپے، دال چنا 30 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی۔
سرخ مرچ کی فی کلوقیمت میں1300روپے سے زائد اضافہ ہوا، اگست 2018 میں سرخ مرچ فی کلو 340 روپے 21 پیسے، جنوری 2021 میں 200 گرام سرخ مرچ پاوڈر 306 روپے 31 پیسے ہو چکی ہے، شہری کہتے ہیں آخرسستاکیاہواہے؟رخسانہ نامی ایک خاتون نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو تو سب کچھ ٹیبل پر پکا پکایا مل جاتا ہے ،وہ خود کچھ جا کر خریدیں تو پتہ چلے کہ کیا چیز کس بھائو پر بک رہی ہے۔

0 Comments